مومن خان مومن

 حکیم مومن خاں مومن کا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے تھا۔ ان کا اصل نام محمد مومن تھا۔ ان کے دادا حکیم مدار خاں شاہ عالم کے عہد میں دہلی آئے اور شاہی طبیبوں میں شامل ہو گئے۔ مومن دہلی کے کوچہ چیلان میں 1801 میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا کو بادشاہ کی طرف سے اک جاگیر ملی تھی جو نواب فیض خان نے ضبط کرکے ایک ہزار روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی تھی۔ یہ پنشن ان کے خاندان میں جاری رہی۔ مومن خان کا گھرانا بہت مذہبی تھا۔ انہوں نے عربی تعلیم شاہ عبدالقادر دہلوی سے حاصل کی۔ فارسی میں بھی ان کو مہارت تھی۔ دنیوی علوم کی تعلیم انہوں نے مکتب میں حاصل کی۔ علوم متداولہ کے علاوہ ان کو طب، رمل، نجوم ریاضی، شطرنج اور موسیقی سے بھی دلچسپی تھی، جوانی میں قدم رکھتے ہی انہوں نے شاعری شروع کردی تھی اور شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے تھے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنی مشق اور جذبات کے راست بیاں کے طفیل دہلی کے شاعروں میں اپنی خاص جگہ بنا لی۔ 1818ء میں انہوں نے سید احمد بریلوی کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن ان کی جہاد کی تحریک میں خود شریک نہیں ہوئے۔ البتہ جہاد کی حمایت میں ان کے کچھ شعر ملتے ہیں۔ مومن نے دو شادیاں کیں، پہلی بیوی سے ان کی نہیں بنی پھر دوسری شادی خواجہ میر درد کے خاندان میں خواجہ محمد نصیر کی بیٹی سے ہوئی۔ موت سے کچھ عرصہ پہلے وہ عشق بازی سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ 1851ء میں وہ کوٹھے سے گر کر بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور پانچ ماہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔